دنیا بھر میں بسنے والے ایک ارب سے زائد مسلمان رمضان کا استقبال کررہے ہیں۔ فلکیاتی ماہرین کی پیش گوئیوں کے مطابق اس سال کئی ممالک میں روزے کا دورانیہ گزشتہ سال کی نسبت کچھ کم اور آسان ہوگا، تاہم دنیا کے شمالی حصوں میں مسلمانوں کے لیے آزمائش بدستور برقرار رہے گی جہاں سورج غروب ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ دنیا کے کس کونے میں مسلمان سب سے طویل روزہ رکھیں گے اور کہاں یہ دورانیہ مختصر ترین ہوگا۔ یہ بھی جانتے ہیں کہ جغرافیائی اعتبار سے اوقات میں یہ فرق کیوں پیدا ہوتا ہے۔
جغرافیائی تقسیم اور روزے کا دورانیہ
روزے کے اوقات کا انحصار مکمل طور پر کسی بھی ملک کے جغرافیائی محل وقوع اور خطِ عرض (Latitude) پر ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں
چونکہ مسلمان فجر سے لے کر سورج غروب ہونے تک کھانے پینے سے رکے رہتے ہیں، اس لیے جن علاقوں میں دِن قدرتی طور پر بڑے ہوتے ہیں وہاں روزہ طویل ہو جاتا ہے۔
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک چونکہ خطِ استوا (Equator) کے نسبتاً قریب ہیں، اس لیے یہاں روزے کے اوقات معتدل رہتے ہیں۔ اصول یہ ہے کہ جیسے جیسے آپ شمال (North) کی طرف بڑھتے ہیں،
دن کا دورانیہ طویل ہوتا جاتا ہے، جبکہ جنوب کی طرف جانے سے دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہونے لگتی ہیں۔
امارات: گزشتہ سال کی نسبت آسانی
رپورٹ کے مطابق اس سال خلیجی ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات میں مقیم مسلمانوں کے لیے اچھی خبر ہے۔ وہاں رمضان کے پہلے دن روزے کا دورانیہ تقریباً 12 گھنٹے اور 46 منٹ متوقع ہے۔
یہ وقت گزشتہ سال کے پہلے روزے کے مقابلے میں تقریباً آدھا گھنٹہ کم ہے، جب دورانیہ 13 گھنٹے اور 16 منٹ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ البتہ مہینے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ وہاں بھی دن کے دورانیے میں بتدریج اضافہ ہوتا جائے گا۔
شمالی ممالک میں صبر و استقامت
دنیا کے وہ ممالک جو انتہائی شمال میں واقع ہیں، وہاں کے مسلمانوں کو اس سال بھی طویل ترین روزوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ روس کے کچھ حصے، گرین لینڈ اور آئس لینڈ وہ مقامات ہیں جہاں دن غیر معمولی طور پر لمبے ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ اسکینڈینیوین ممالک جیسے ناروے، سویڈن اور فن لینڈ میں روزے کا دورانیہ یومیہ 16 گھنٹے سے تجاوز کر جائے گا۔
معاملہ یہیں تک محدود نہیں، بلکہ کینیڈا کے شمالی علاقوں اور انتہائی بلندی پر واقع دیگر خطوں میں دن کی روشنی اتنی دیر تک رہتی ہے کہ وہاں روزہ 20 گھنٹے تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
انتہائی طویل روزے اور شرعی رعایت
جن علاقوں میں دن غیر معمولی طور پر لمبے ہوتے ہیں یا سورج نہ ہونے کے برابر غروب ہوتا ہے، وہاں کے لیے علمائے کرام اور فقہا نے مسلمانوں کی آسانی کے لیے دو اہم شرعی حل پیش کیے ہیں:
1. ایسے علاقوں کے لوگ مکہ مکرمہ کے اوقاتِ سحر و افطار کی پیروی کریں۔
2. یا پھر وہ اپنے قریب ترین ایسے شہر کے اوقات اپنا لیں جہاں دن اور رات کا فرق معمول کے مطابق ہوتا ہے۔
جنوبی نصف کرہ: مختصر ترین روزے
دوسری جانب دنیا کے وہ ممالک جو خطِ استوا کے قریب یا جنوبی نصف کرہ (Southern Hemisphere) میں واقع ہیں، وہاں صورتحال بالکل مختلف اور نسبتاً آسان ہے۔ برازیل، ارجنٹائن، یوراگوئے، چلی، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ میں روزے کا دورانیہ سب سے کم ہوگا۔ ان ممالک میں روزہ عموماً 11 سے 13 گھنٹے کے درمیان رہے گا۔
اس کے علاوہ انڈونیشیا، ملائیشیا اور کینیا جیسے استوائی ممالک میں سال بھر دن اور رات کا فرق زیادہ نہیں ہوتا، اس لیے وہاں پورا مہینہ روزہ تقریباً 12 سے 14 گھنٹے کے درمیان مستحکم رہے گا۔