اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

زمین اور  زحل کے ایسے راز جنہیں جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: اے آئی)

ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں، جس میں ٹیکنالوجی نے کائنات کی تسخیر کو ممکن بنا دیا ہے، لیکن اس کے باوجود خلا اور ہماری اپنی زمین آج بھی بے شمار رازوں سے بھری پڑی ہے۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق سائنسدان آئے روز نت نئی دریافتیں کر رہے ہیں جو انسانی عقل کو حیران کر دیتی ہیں۔ آج ہم آپ کے سامنے 2 ایسے ہی سائنسی حقائق رکھ رہے ہیں جو بظاہر ناممکن لگتے ہیں لیکن جدید تحقیق نے انہیں سچ ثابت کر دکھایا ہے۔

ان میں سے ایک کا تعلق نظامِ شمسی کے خوبصورت ترین سیارے ’زحل‘ سے ہے اور دوسرا ہماری اپنی زمین کی ہریالی سے جڑا ہے۔

زحل پانی پر تیر سکتا ہے

saturn 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

نظامِ شمسی کا چھٹا سیارہ ’زحل‘ (Saturn) اپنی خوبصورت دائرہ نما رِنگز اور دیو ہیکل جسامت کی وجہ سے ہمیشہ فلکیات کے شائقین کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہ ایک ’گیس جائنٹ‘ ہے، لیکن اس کے بارے میں سب سے حیران کن بات اس کی جسامت نہیں بلکہ اس کی کثافت (Density) ہے۔

سائنسی جریدے ’اوریٹ اے آئی‘ (Oreat AI) کی رپورٹ کے مطابق، زحل کی کثافت اتنی کم ہے کہ اگر نظریاتی طور پر ہمیں کائنات میں کوئی ایسا پانی کا ٹب یا حوض مل جائے جو اتنا بڑا ہو کہ زحل اس میں سما سکے، تو یہ ڈوبنے کے بجائے پانی کی سطح پر تیرنے لگے گا۔

کثافت کا کھیل

سائنسدانوں کے مطابق زحل کی کثافت پانی کی کثافت کا صرف 70 فیصد ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے آپ تصور کر سکتے ہیں کہ زحل ایک دیو ہیکل ’بیچ بال‘ کی طرح ہے جو کسی وسیع سمندر میں تیر رہی ہو۔

اگرچہ حقیقت میں زمین یا نظام شمسی میں کہیں بھی اتنا بڑا سمندر موجود نہیں ہے جہاں اس تجربے کو عملی طور پر کیا جا سکے، لیکن طبعیات کے اصول یہی بتاتے ہیں۔

زحل کوئی ٹھوس سیارہ نہیں ہے، بلکہ یہ بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیم گیسوں کا مجموعہ ہے جو اس کے مرکز میں ممکنہ طور پر موجود ایک چٹانی کور (Core) کے گرد لپٹی ہوئی ہیں۔

اسی گیسی ساخت کی وجہ سے اس کی کثافت مشتری (Jupiter) جیسے دیگر سیاروں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ یاد رہے کہ مشتری کا وزن زحل سے دوگنا ہے اور وہ اپنی ساخت کی وجہ سے زحل سے کہیں زیادہ کثیف ہے۔

زمین بمقابلہ کہکشاں

saturn 1
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اب ذرا نظر خلا سے واپس اپنی زمین پر لاتے ہیں۔ ہماری کہکشاں ’ملکی وے‘ (Milky Way)، جس میں ہمارا نظامِ شمسی اور زمین موجود ہیں، ستاروں سے بھری ہوئی ہے۔ ماہرینِ فلکیات کے اندازے کے مطابق ہماری کہکشاں میں ستاروں کی تعداد 100 سے 400 ارب کے درمیان ہے۔

لیکن ویب سائٹ ’میڈیم‘ (Medium) کے مطابق زمین پر موجود درختوں کی تعداد ان ستاروں سے کہیں زیادہ ہے۔ جدید اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ زمین پر تقریباً 3 ٹریلین (30 کھرب) درخت موجود ہیں۔ یہ ایک ایسا موازنہ ہے جو سنتے ہی انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔

سات گنا زیادہ ہریالی

اعداد و شمار کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر درختوں کی تعداد کہکشاں کے ستاروں کے مقابلے میں کم از کم سات گنا زیادہ ہے۔

ہماری نیلی اور ہری زمین پر چھوٹے بڑے، سیدھے اور ٹیڑھے، ہر طرح کے درخت موجود ہیں جو آسمان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ یہ تناسب (Ratio) اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری زمین زندگی اور ہریالی سے کس قدر مالا مال ہے۔

چونکا دینے والی تحقیق

saturn 3
(فوٹو: اے آئی)

درختوں کی یہ گنتی کوئی ہوائی بات نہیں بلکہ ٹھوس سائنسی بنیادوں پر استوار ہے۔ سال 2015 میں ’ییل یونیورسٹی‘ (Yale University) کے محققین نے سیٹلائٹ ڈیٹا، جنگلات کے سروے اور پیچیدہ الگورتھمز کا استعمال کرتے ہوئے زمین پر درختوں کی گنتی کی۔

اس تحقیق کے نتائج نے خود سائنسدانوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ اس سے قبل یہ سمجھا جاتا تھا کہ دنیا میں صرف 400 ارب درخت ہیں، لیکن ییل یونیورسٹی کی تحقیق نے انکشاف کیا کہ اصل تعداد 3 ٹریلین کے قریب ہے، جو کہ سابقہ اندازوں سے 8 گنا زیادہ تھی۔

ستاروں کی گنتی

دوسری جانب ستاروں کو گننا درختوں کی نسبت زیادہ مشکل کام ہے۔ ماہرینِ فلکیات ستاروں کی تعداد کا اندازہ کہکشاں کے ماس (کمیت)، کثافت اور ساخت کو مدنظر رکھ کر لگاتے ہیں۔

ان تمام حساب کتاب کے بعد جو اوسط نکالا گیا ہے، اس کے مطابق ملکی وے میں ستاروں کی تعداد 100 ارب سے 400 ارب کے درمیان ہے، جو کہ زمین پر موجود 3 ٹریلین درختوں کے سامنے بہت کم دکھائی دیتی ہے۔