وزیر برائے اسلامی امور، دعوت و ارشاد شیخ ڈاکٹر عبداللطیف بن عبدالعزیز آل شیخ نے ماہِ رمضان کے دوران وزارت کے ہیڈ آفس کے لیے ایک اہم انتظامی فیصلہ جاری کیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت رمضان المبارک کے دوران ریاض میں واقع وزارت کے مرکزی دفتر کے 50 فیصد ملازمین کو گھر سے کام (ورک فرام ہوم) کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد کام کی کارکردگی کو بڑھانا اور رمضان میں ملازمین کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے۔
پیر 28 شعبان 1447 ہجری کو جاری ہونے والے اس فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ریموٹ ورکنگ کا اطلاق صرف ریاض میں وزارت کے ہیڈ آفس کے مختلف ایجنسیوں اور محکموں کے عملے پر ہوگا۔
اس نئے نظام کے تحت تمام متعلقہ شعبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھر سے کام کرنے والے ملازمین کی فہرستیں تیار کر کے جنرل ڈیپارٹمنٹ آف ہیومن ریسورسز کو فراہم کریں تاکہ کام کا تسلسل برقرار رہے۔
فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ گھر سے کام کرنے والے ملازمین کی کارکردگی اور پیداواری صلاحیت کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے تمام شعبوں کو ضروری تکنیکی اور فنی مدد فراہم کی جائے گی تاکہ دفتری امور میں کوئی رکاوٹ نہ آئے، تاہم فیصلے میں یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ اگر کام کی ضرورت پیش آئی تو کسی بھی ملازم کو کسی بھی وقت دفتر طلب کیا جا سکے گا۔
وزیرِ اسلامی امور کے مطابق یہ فیصلہ رمضان کے مقدس مہینے میں مرد و خواتین ملازمین کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ بہتر ماحول میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ کام کے نتائج بھی زیادہ مثبت حاصل ہوں گے۔ یہ فیصلہ وزارت کے اندر کام کے ماحول کو جدید بنانے اور کارکردگی کے معیار کو بلند کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ یہ انتظامی تبدیلی وزارتِ مذہبی امور میں تیزی سے جاری ڈیجیٹل تبدیلی اور جدید ٹیکنالوجی کے بھرپور استعمال کی عکاسی کرتی ہے، جس کے تحت جدید تکنیکی ذرائع کو بروئے کار لا کر وزارت رمضان کے دوران اندرون و بیرونِ ملک اپنے دعوتی پروگراموں اور سرگرمیوں کو مزید وسعت دے رہی ہے۔