آج جب ہم رمضان المبارک کا استقبال کرتے ہیں تو ہماری تیاریوں کا محور شاپنگ مالز، اشیائے خور و نوش کے انبار اور چکا چوند اشتہاری مہمات ہوتی ہیں، لیکن اگر ہم تاریخ کے جھروکوں سے صرف 70 برس پیچھے جھانکیں تو ہمیں ایک بالکل مختلف دنیا نظر آتی ہے۔
مزید پڑھیں
ہمارے بزرگوں کی یاداشتیں بتاتی ہیں کہ آج کے اس ’کنزیومر کلچر‘ اور راتوں کو جاگنے کے رواج کے برعکس، اُن کے اجداد کا رمضان قناعت، سادگی اور روحانیت کا مرقع ہوا کرتا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب رمضان کی تیاری کا مطلب پیٹ بھرنے کا سامان اکٹھا کرنا نہیں، بلکہ روح کو غذا دینے کے لیے مشقت بھرے کاموں سے چھٹی لینا ہوتا تھا۔
آئیے ہم 70 سال قبل کے رمضان کے معمولات، سحری و افطار کے مینیو
اور خواتین کی مصروفیات کا ایک تفصیلی جائزہ لیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ ہمارے بزرگ کس طرح محدود وسائل میں بھی اس مہینے کا حق ادا کرتے تھے۔
مردوں کی تیاریاں
اس دور میں جب رمضان قریب آتا تھا تو گھر کے سربراہ یا مرد حضرات سپر اسٹورز کی طرف نہیں بھاگتے تھے اور نہ ہی ان کا مقصد لذیذ پکوانوں کا ذخیرہ کرنا ہوتا تھا۔ ان کی تمام تر منصوبہ بندی کا محور صرف ایک نکتے پر ہوتا تھا کہ ’رمضان میں کام کا بوجھ کیسے کم کیا جائے تاکہ عبادت کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت میسر آ سکے؟‘۔
چونکہ اس زمانے میں آج کی طرح ماہانہ تنخواہوں یا مستقل ملازمتوں کا رواج عام نہیں تھا، بلکہ زیادہ تر لوگ دیہاڑی دار یا یومیہ اجرت پر کام کرنے والے تھے، اس لیے ’کام نہیں تو کھانا نہیں‘ والا معاملہ تھا۔
اس کے باوجود وہ رمضان سے پہلے کے مہینوں میں بچت کرتے اور پیسے جوڑتے تھے تاکہ رمضان میں کام سے ہاتھ کھینچ سکیں اور گھر کا خرچ بھی چلتا رہے۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ جسمانی مشقت والے کاموں کو یا تو رمضان سے پہلے نمٹا لیا جائے یا عید کے بعد تک مؤخر کر دیا جائے۔
’شعبان القصیر‘
اجداد کے ہاں شعبان کے مہینے کی ایک خاص اہمیت اور نام تھا۔ وہ اسے ’شعبان القصیر‘ یعنی ’مختصر شعبان‘ کہتے تھے۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اس مہینے کے دن کم ہوتے تھے، بلکہ وجہ یہ تھی کہ وہ رمضان سے پہلے اپنے تمام بھاری بھرکم کام اسی مہینے میں نمٹانے کی کوشش کرتے تھے، جس کی وجہ سے انہیں لگتا تھا کہ وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے اور مہینہ چھوٹا پڑ گیا ہے۔
مشقت طلب کام جنہیں رمضان سے پہلے ختم کرنا لازمی سمجھا جاتا تھا، ان میں کنوؤں کی کھدائی، دیواروں کی تعمیر، کھجور کے درختوں کو اکھاڑنا یا لگانا، پہاڑوں سے پتھر اور لکڑیاں کاٹ کر لانا اور برساتی نالوں یا سیلابی گزرگاہوں کی مرمت شامل تھی۔
یہ ایسے کام تھے جو روزہ رکھ کر کرنا تقریباً ناممکن تھے، اس لیے شعبان میں دن رات ایک کر کے انہیں مکمل کیا جاتا تھا۔
خاندانی اور سماجی بندھن
ماضی کے رمضان کا سب سے خوبصورت پہلو وہ سماجی اور خاندانی رواداری تھی جو آج نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ اس دور میں افطار صرف ایک فرد یا ایک چھوٹے سے کنبے تک محدود نہیں ہوتا تھا بلکہ خاندان کے تمام مرد ایک ہی دسترخوان پر جمع ہوتے اور اسی طرح خواتین بھی الگ اکٹھی ہو کر روزہ کھولتی تھیں۔
یہ سلسلہ صرف گھروں تک محدود نہ تھا بلکہ اکثر پورے محلے یا گاؤں کے مرد حضرات ایک جگہ جمع ہو کر اجتماعی افطار کرتے اور قہوہ پیتے۔ اس سے باہمی محبت، صلہ رحمی اور بھائی چارے کی فضا قائم ہوتی تھی۔
اسی طرح خواتین کا حال بھی مختلف نہ تھا۔ وہ ثواب کی نیت اور پڑوسیوں کا حق ادا کرنے کے لیے افطار سے کچھ دیر پہلے بچوں کے ہاتھ اپنے گھر کا بنا کھانا پڑوس میں بھجواتیں، جسے ایک مقدس رسم کی طرح نبھایا جاتا تھا۔
سحری کا مینیو
کھانے پینے کے حوالے سے اجداد کی سوچ بہت سادہ مگر منطقی تھی۔ وہ رمضان میں اپنی خوراک میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہیں لاتے تھے، سوائے اس کے کہ سحری کا اہتمام ذرا ’بھاری‘ ہوتا تھا۔
چونکہ دن میں روزے کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضروری کام بھی نمٹانے ہوتے تھے، اس لیے سحری میں ایسی غذاؤں کا انتخاب کیا جاتا جو دیر تک پیٹ میں رہیں اور توانائی فراہم کریں۔
سحری کے دسترخوان پر زیادہ تر گندم سے بنی دیسی غذائیں ہوتی تھیں۔ ان میں ’مرقوق‘ (شوربے والا سالن جس میں روٹی کے ٹکڑے ہوں)، ’جریش‘ (کوٹا ہوا گندم) اور ’قرصان‘ (خشک روٹی کی ایک قسم) شامل تھیں۔ یہ وہ دیسی کھانے تھے جو سخت گرمی اور بھوک پیاس کا مقابلہ کرنے کے لیے جسم کو مطلوبہ طاقت فراہم کرتے تھے۔
افطار میں سادگی
آج کے دور کے درجنوں ڈشز پر مشتمل افطار کے برعکس 70 سال قبل کا دسترخوان انتہائی مختصر اور سادہ ہوتا تھا۔ افطار کا آغاز روایتی طور پر کھجور اور پانی سے کیا جاتا تھا۔ کچھ گھروں میں لسی، دودھ، یا پانی میں بھیگا ہوا ’اقط‘ (خشک دہی یا پنیر) بھی شامل ہوتا۔
اُس دور میں امپورٹڈ فروٹس یا بازار کے تلے ہوئے پکوانوں کا تصور نہیں تھا اور وسائل بھی محدود تھے، اس لیے دسترخوان پر عام طور پر گھر کا بنا ہوا صرف ایک ہی سالن یا ڈش ہوتی تھی۔ اسی سادگی میں برکت تھی اور اسی پر اللہ کا شکر ادا کیا جاتا تھا۔
خواتین کا کردار
رمضان میں خواتین کا کردار انتہائی کلیدی اور محنت طلب ہوتا تھا۔ چونکہ اس دور میں آٹا پیسنے کی مشینیں یا تیار مصالحے دستیاب نہیں تھے، اس لیے خواتین رمضان شروع ہونے سے پہلے ہی گھر میں موجود ہاتھ کی چکی (رحیٰ) پر گندم پیس کر پورے مہینے کا آٹا ذخیرہ کر لیتیں تھیں۔
اسی طرح دلیہ بنانے کے لیے گندم کو پہلے ہی کوٹ لیا جاتا تھا (جسے مجرشہ کہا جاتا تھا)۔
خواتین روٹیاں (قرصان) پکا کر انہیں سکھا لیتیں تاکہ رمضان میں کھانا پکانے کا وقت بچ سکے۔ وہ خواتین جو سلائی کڑھائی یا کھجور کے پتوں سے ٹوکریاں بنانے کا کام کرتی تھیں، وہ بھی اپنے تمام آرڈرز رمضان سے پہلے مکمل کر لیتیں تاکہ مقدس مہینے میں انہیں عبادت کا زیادہ موقع مل سکے۔
رمضان کے دوران خواتین گھر والوں کے لیے سحری و افطار تیار کرنے کے ساتھ ساتھ تلاوتِ قرآن اور تراویح کا بھی خاص اہتمام کرتیں اور اکثر گاؤں کی مسجد میں باجماعت تراویح ادا کرنے جاتیں۔
معمولاتِ زندگی
آج کل رمضان کو ’جاگنے کا مہینہ‘ سمجھ لیا گیا ہے جہاں رات بھر بازار کھلے رہتے ہیں اور سحری تک جاگنا ایک فیشن بن چکا ہے، لیکن اجداد کے ہاں ’سحر‘ (رات گئے تک جاگنا) کا کوئی تصور نہیں تھا، سوائے عبادت کے۔ وہ عشا اور تراویح کے فوراً بعد سو جاتے تھے تاکہ سحری کے لیے تازہ دم اٹھ سکیں۔
دِن کا آغاز نمازِ فجر کے فوراً بعد ہوتا تھا۔ لوگ فجر پڑھتے ہی اپنے کھیتوں یا دکانوں کا رخ کرتے اور دوپہر (ظہر) تک کام کرتے۔ چونکہ گھروں میں ائیر کنڈیشنر یا پنکھے نہیں ہوتے تھے، اس لیے دوپہر کی شدید گرمی سے بچنے کے لیے اکثر لوگ کھیتوں میں گھنے درختوں کے سائے میں آرام کرنے کو ترجیح دیتے، کیونکہ وہ جگہ کچی مٹی کے گھروں کی نسبت زیادہ ٹھنڈی اور ہوادار ہوتی تھی۔