سعودی عرب نے اسرائیلی قابض حکام کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے جس کے تحت مغربی کنارے کی زمینوں کو قابض حکام کی ’ریاستی املاک‘ کے طور پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
یہ اقدام اس مقصد کے تحت کیا جا رہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں نئے قانونی اور انتظامی حقائق قائم کیے جائیں، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
مزید پڑھیں
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کی مقبوضہ فلسطینی زمینوں پر کوئی حاکمیت نہیں اور اس غیر قانونی اقدام کی ہر طرح سے مخالفت کی ہے، جو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور دو ریاستی حل کو کمزور کرتا ہے۔
یہ بات وزارت خارجہ نے جاری کئے جانے و الے اعلامیہ میں کہی ہے۔
وزارت نے یہ بھی زور دیا کہ یہ اقدامات فلسطینی بھائیوں کے اس
بنیادی حق پر حملہ ہیں کہ وہ 4 جون 1967 کی سرحدوں کے اندر اپنی آزاد اور خودمختار ریاست قائم کریں، جس کا دار الحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔